Home / اہم ترین / ہماچل اسمبلی میں انسدادِتبدیلی ٔ مذہب بل صوتی ووٹ سے پاس

ہماچل اسمبلی میں انسدادِتبدیلی ٔ مذہب بل صوتی ووٹ سے پاس

شملہ:(ہرپل نیوز؍ایجنسی)13؍اگست:ہماچل پردیش اسمبلی نے سنیچر کو ایک صوتی ووٹ کے ذریعہ موجودہ انسداد تبدیلی قانون میں ترمیم کرنے کا ایک بل منظور کیا، جو موجودہ قانون میں سزا میں اضافہ اور زبردستی یا جبر کے ذریعہ تبدیلی ٔ مذہب کو روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ بل میں قید کی سزا کو سات سال سے بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 10 سال کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہماچل پردیش مذہبی آزادی (ترمیمی) بل 2022 کو ہفتہ کو صوتی ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔ بل میں اجتماعی تبدیلی ٔ مذہب کا ذکر ہے، جسے بیک وقت دو یا دو سے زیادہ لوگوں کی تبدیلی ٔ مذہب کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

سی ایم جے رام ٹھاکر کی قیادت والی ریاستی حکومت نے جمعہ کو بل پیش کیا تھا۔ ترمیمی بل ہماچل پردیش مذہبی آزادی ایکٹ 2019 کی دفعات کو مزید سخت کرتا ہے، جو بمشکل 18 ماہ قبل نافذ ہوا تھا۔ ہماچل پردیش مذہبی آزادی ایکٹ، 2019 کو 21 دسمبر 2020 کو ہی متعارف کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے بل 15 ماہ قبل اسمبلی میں منظور کیا گیا تھا۔ 2019 کا بل بھی 2006 کے قانون کو تبدیل کرنے کے لیے لایا گیا تھا، جس میں کم سزا کا بندوبست تھا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/xE7Sz

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.