Home / اہم ترین / ’یا اللہ ہمیں معاف فرما‘ میدان عرفات کی فضاء حجاج کی رقت آمیز دعاؤں سے گونج اٹھی
Muslim pilgrims performing the haj climb the Jebel al-Rahma (Mount Mercy) at the plain of Arafat, near Mecca, December 29, 2006. More than 2 million elated Muslim pilgrims crowded onto holy Mount Arafat near Mecca on Friday, praying for Muslims around the world and hoping for a safe haj. REUTERS/Ali Jarekji (SAUDI ARABIA)

’یا اللہ ہمیں معاف فرما‘ میدان عرفات کی فضاء حجاج کی رقت آمیز دعاؤں سے گونج اٹھی

ریاض:(ہرپل نیوز؍ایجنسی)8؍جولائی:دنیا بھر سے تقریباً دس لاکھ فرزندان توحید میدان عرفات میں حج کا رکن اعظم وقوف عرفات ادا کر رہے ہیں۔ حجاج کرام کی بڑی تعداد جبل رحمت پر جمع ہو کر گڑ گڑا کر اللہ سے دعائیں مانگ رہے ہیں۔سفید احرام میں ملبوس حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے والے مسلمان مرد وخواتین کی زبانوں پر تلبیہ ہے ،ا س کے ساتھ ساتھ حجاج کرام جبل رحمت پر رو رو کر بخشش، مغفرت، رحمت اور برکت کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔جبل رحمت جسے ’جبل عرفات‘ کہا جاتا ہے مکہ مکرمہ کے مشہور مذہبی اور تاریخی پہاڑوں میں سے ایک ہے۔ حجاج کرام صبح کے وقت جبل رحمت کی طرف عازم سفر ہوتے ہیں اور یہاں پر وقفہ کبریٰ کرتے، دعائیں کرتے ہیں۔

میدان عرفات کے بیچوں بیچ جبل رحمت ہے۔ یہ میدان عرفات کے شمال مشرق میں سرخ رنگ کی ایک مخروطی پہاڑی ہے جس کی اونچائی 200 فٹ سے کچھ کم ہے اور عرفات کے اصل پہاڑی سلسلے سے ذرا الگ سی ہوگئی ہے۔عام لوگ پہاڑ کو جبل رحمت کو "جبل القرین” بھی کہتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ سینگ کی طرح اس کی چوٹی کی شکل ہے۔ اسلامی جغرافیہ کی کتابوں میں اسے "الال پہاڑ” کا نام بھی دیا گیا ہے۔’جبل رحمت‘ اپنے اردگرد کے پہاڑوں کی نسبت ایک چھوٹا پہاڑ ہے۔ اس کی اونچائی 30 میٹر سے زیادہ نہیں ہے اور چوٹی پر چار میٹر کی اونچائی کے ساتھ اندازہ لگانے کے لیے ایک تازہ ترین اعداد وشمار موجود ہیں۔

میدان عرفات شمال سے جنوب تک 12 کلومیٹر اور مشرق سے مغرب تک پانچ کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ شمالی جانب سے عرفات نامی پہاڑی سلسلے میں گھرا ہوا ہے۔یہ پہاڑ عرفات کے شمال میں اور حرم کی حدود سے باہر باہر واقع ہے۔ اس کی چوٹی پر چڑھنا مشکل ہے۔ اس لیے میں نے چوٹی تک پہنچنے کے لیے زینے بنائے گئے ہیں۔یہاں پر عرفہ کے روز حجاج کرام وقوف کے لیے پہنچتے ہیں۔ وقوف عرفہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’میں وقوف کیا ہے۔ پورے کا پورا عرفہ وقوف ہے۔حجۃ الوداع کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنی اونٹنی القصویٰ پر سوار ہو کر وقوف عرفات تک پہنچے۔ آپ نے وہیں قیام فرمایا تھا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/sIi9j

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.