Home / اہم ترین / یوپی: تبدیلی ٔمذہب قانون کیخلاف ہائی کورٹ میں عرضی، جواب طلب

یوپی: تبدیلی ٔمذہب قانون کیخلاف ہائی کورٹ میں عرضی، جواب طلب

الہ آباد: (ہرپل نیوز؍ایجنسی)15؍ستمبر: الہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی غیرقانونی تبدیلی مذہب قانون 2021 کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی عرضی پر یوگی حکومت کے خلاف نوٹس جاری کیا ہے۔ قائم مقام چیف جسٹس منیشور ناتھ بھنڈاری کی سربراہی والی بنچ نے عرضی کو دیگر زیر التوائدرخواستوں کے ساتھ منسلک کر دیا ہے ا ور اسے تین ہفتوں بعد کے لئے لسٹ کر دیا۔

تبدیلی مذہب قانون کے خلاف پہلے ہی دو مفاد عامہ کی عرضیاں دائر کی جا چکی ہیں۔ نئی عرضی سمیت تمام درخواستوں پر اب آئندہ تاریخ پر سماعت کی توقع ہے۔ یہ عرضی آنند مالویہ نے ایڈوکیٹ شادان فراست اور طلحہ عبدالرحمن کے ذریعے دائر کی تھی۔عرضی گزار آنند مالویہ ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہیں، جنہوں نے حکومت ہند کے قومی نمونہ سروے آفس میں سینئر شماریاتی افسر کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں۔

ان کی دلیل کے مطابق قانون آئین کے سیکولر کردار کیخلاف ہونے کے ساتھ انتخاب کی آزادی اور مذہب کی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون بنیادی طور پر موجودہ آئینی حیثیت کی نفی کرنے کی کوشش کرتا ہے اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو شادی سے پہلے ریاست سے اجازت لینے پر مجبور کرتا ہے۔

عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ عمل فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکانے اور سماج کو ذات اور مذہب کی بنیادوں پر تقسیم کی ایک کوشش ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/Tdmz9

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.