Home / اہم ترین / یوپی میں ہمیں ڈی ایم اور ای وی ایم سے محتاط رہنا ہوگا: اکھلیش یادو

یوپی میں ہمیں ڈی ایم اور ای وی ایم سے محتاط رہنا ہوگا: اکھلیش یادو

لکھنؤ: (ہرپل نیوز؍ایجنسی)18؍ستمبر: یوپی کی راجدھانی لکھنؤ میں سماج وادی پارٹی کے دفتر میں آل انڈیا وشوکرما مہاسبھا کی تقریب منعقد کی گئی ۔ اس میں ایس پی کے قومی صدر اکھلیش یادو بطور مہمان خصوصی موجود تھے۔ پروگرام میں اکھلیش یادو نے بی جے پی اور وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر وشواکرم سماج سے صرف نظر کا الزام لگایا۔

اکھلیش یادو نے یہ بھی اعلان کیا کہ اگر سماج وادی پارٹی یوپی کے اقتدار میں لوٹ کر آئی ،تو وہ وشوکرما پوجا کی چھٹی بحال کرے گی۔علاوہ ازیں لکھنؤ میں دریائے گومتی کے کنارے پر وشوکرما کا ایک’ مندر‘ بھی تعمیر کیا جائے گا۔اکھلیش یادو نے کہا کہ صوبہ میں بارش کی وجہ سے بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔

اس سلسلے میں حکومت نے کوئی مناسب انتظام نہیں کیا تھا، جس کی وجہ سے اس قدر تباہی مچ گئی ۔ اب بی جے پی حکومت کا وقت آخری ہے۔ اس حکومت میں ہر طبقہ کے تذلیل ہوئی ہے ۔ اس حکومت نے جھوٹ کا ایک نیا ریکارڈ بنایا ہے۔بی جے پی لوگوں کے لیے ایک ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ بھی ہے ، جہاں جھوٹ بولنے کی تربیت دی جاتی ہے ۔

اکھلیش یادو نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ نے وشوکرما پوجا کی چھٹی ختم کرکے وشوکرما طبقہ کے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے ۔اکھلیش نے کہا کہ حکومت صرف نام بدلنے کا کام کر رہی ہے۔ انہوں نے پوچھاکہ 5ٹریلین معیشت کا خواب کہاں گیا؟ وزیراعلیٰ نے 1 ٹریلین معیشت کے ہدف کی بات کی تھی ، یہ کہاں ہے؟ اکھلیش یادو نے یہ بھی کہا کہ کرونابحران میں کتنی جانیں ضائع ہوئیں؟

ہسپتالوں میں آکسیجن نہیں تھی ، بیڈ نہیں تھے۔ مگر کرونا دور میں سماج وادیوں کی طرف سے چلائی جانے والی ایمبولینس کام آئی۔ ایسے وقت میں لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا کہ غریبو ں کی جان چلی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سماج وادی لوگ سادہ لوح ہیں ، موبائل کے ذریعہ ہمیں جو مواد ملتا ہے ، اس پر ہم یقین کرلیتے ہیں ،سچی بات تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بی جے پی کا ’ای راون‘ بیٹھا ہے۔

ان کے مطابق یوپی الیکشن ملک کا سب سے بڑا الیکشن ہے۔ بہار میں بے ایمانی ہوئی تھی ، بہار میں ڈی ایم اور ای وی ایم نے بے ایمانی کی ، لیکن بنگال میں عوام نے درست جواب دیا۔ اتر پردیش میں بھی ہمیں دونوں (ڈی ایم اور ای وی ایم) سے محتاط رہنا ہوگا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/qFCjq

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.