Home / اہم ترین / یوگی حکومت کا سرکاری فرمان: بورڈ امتحان میں نقلچی طلبا کیخلاف قومی سلامتی قانون کے تحت کارروائی کاعندیہ

یوگی حکومت کا سرکاری فرمان: بورڈ امتحان میں نقلچی طلبا کیخلاف قومی سلامتی قانون کے تحت کارروائی کاعندیہ

لکھنؤ:(ہرپل نیوز؍ایجنسی)22؍جنوری: یو پی کی یوگی سرکار نے اعلان کیا ہے کہ یوپی ہائی اسکول (10ویں جماعت) اور انٹرمیڈیٹ (12ویں جماعت) بورڈ امتحانات 2023 میں جو طلبا نقل کرتے ہوئے پکڑے جائیں گے، اُن طلباء پر قومی سلامتی قانون-1980 (این ایس اے) کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ اگر نقل کرانے میں استاد ، ایگژام روم گائیڈ یا کوئی اور ملوث پایا گیا تو اس کی قرقی بھی کرائی جائے گی۔رپورٹ کے مطابق اس بار ان اسکولوں کو امتحانی مرکز نہیں بنایا گیا ہے، جن کیخلاف ’ایس ٹی ایف‘ نے رپورٹ پیش کی تھی۔ امتحانی پرچوں کو بھی ڈبل لاک میں رکھا جائے گا، جس کے لیے علیحدہ اسٹرانگ روم بنایا گیا ہے۔

اسٹرانگ روم کی نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی نصب کیے گئے ہیں۔ڈائریکٹر جنرل اسکول ایجوکیشن وجے کرن آنند کے مطابق انہوں نے تعلیمی افسران کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے تیاریوں کا جائزہ لیا ہے۔ یہ ہدایات بھی جاری کی ہیں کہ اتر پردیش حکومت امتحان کے بعد کاپیوں کی اچانک جانچ کرے گی تاکہ یوپی بورڈ کو نقل سے پاک بنایا جا سکے۔ نقل روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں اور ایسا کرنے والے طلبا کو اب بخشا نہیں جائے گا۔ یوپی حکومت ان پر این ایس اے کے تحت کارروائی کرے گی۔ نقل میں ملوث پائے جانے والے امتحانی مرکز کے ایڈمن روم انویجیلیٹر کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔

اس کے ساتھ ان کے خلاف قرقی کی کارروائی بھی کی جائے گی۔خیال رہے کہ دسویں اور بارہویں کے پریکٹیکل امتحانات شروع ہو گئے ہیں۔ پہلی بار ہر صفحے پر بارکوڈ کا نظام نافذ کیا جا رہا ہے۔ 3.30 کروڑ کاپیوں پر بار کوڈ استعمال کیے جائیں گے۔ بورڈ کے امتحانات کے پہلے مرحلے میں آگرہ، سہارنپور، بریلی، لکھنؤ، جھانسی، چترکوٹ، ایودھیا، اعظم گڑھ، دیوی پاٹن اور بستی ڈویڑنوں میں پریکٹیکل امتحانات شروع ہو رہے ہیں، جو 28 جنوری تک جاری رہیں گے۔ جن اسکولوں میں سی سی ٹی وی کی سہولت نہیں ہے، وہاں رجسٹرڈ طلبا کے لیے پریکٹیکل امتحانی مرکز کے لیے قریب ترین سی سی ٹی وی کی سہولت والا اسکول مقرر کیا گیا ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/Bt04N

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.