Home / اہم ترین / 33 سال سے زیر التوا مقدمہ میں گجرات ہائی کور کا موقف سخت کہا، ’بحث کریں، ورنہ ایک لاکھ کا جرمانہ عائد کیا جائے گا

33 سال سے زیر التوا مقدمہ میں گجرات ہائی کور کا موقف سخت کہا، ’بحث کریں، ورنہ ایک لاکھ کا جرمانہ عائد کیا جائے گا

گاندھی نگر:(ہرپل نیوز؍ایجنسی)3؍دسمبر: گجرات ہائی کورٹ نے گزشتہ 33 سالوں سے زیر التوا ایک مقدمہ میں مدعا علیہ کے وکیل کو بحث کی ہدایت دیتے انتباہ دیا کہ اگر ایسا نہ کیا تو ان پر ایک لاکھ روپے کا جرمانے عائد کیا جائے گا۔ چیف جسٹس اروند کمار اور آشوتوش جے شاستری کی ڈویژن بنچ نے یہ کہتے ہوئے معاملے کو ملتوی کرنے سے انکار کر دیا کہ عرضی گزشتہ 33 سالوں سے ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔دراصل، ایڈوکیٹ آدتیہ بھٹ نے بنچ سے مقدمہ کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے دلیل دی کہ وہ اس مقدمے میں پہلی بار پیش ہو رہے ہیں۔

وکیل نے کہا کہ ’ہاتھ جوڑ کر عدالت سے کیس ملتوی کرنے کی درخواست کرتا ہوں۔‘ اس کے جواب میں ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اروند کمار نے کہاکہ ہم بھی ہاتھ جوڑ رہے ہیں، براہ کرم کیس کو آگے بڑھائیں۔ کیس کو ملتوی کرنے کے مطالبے سے ناراض جسٹس نے خبردار کیا کہ وہ جرمانہ عائد کریں گے۔وکیل کی استدعا پر عدالت نے کہا کہ اپیل خارج کر دی جائے گی۔ پھر سپریم کورٹ جائیں اور بتائیں یہاں کیا ہو رہا ہے؟ پہلی اپیل 33 سال سے زیر التوا ہے کیونکہ وکلاء اس معاملہ میں بحث نہیں کر رہے ہیں، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ معاشرے کے لیے ایک پیغام ہوگا۔گجرات ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اروند کمار نے طنز کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں تو آپ ہمیں کوس سکتے ہیں لیکن براہ کرم بحث کریں۔ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ وہ عدالت کو کوسنے کا کبھی سوچ بھی نہیں سکتے، وہ عدالت کو صرف دعا دیں گے۔ اس پر چیف جسٹس کمار نے اصرار کیا کہ اگر آپ ہمیں دعا دینا چاہتے ہیں تو مقدمہ پر بحث کر کے ہمیں دعا دیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/5JFk7

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.