Home / اہم ترین / بہار میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر فصلیں تباہ

بہار میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر فصلیں تباہ

پٹنہ (ہرپل نیوز،ایجنسی)17اکتوبر:بہار کے ضلع کھگڑیا میں گزشتہ ۳؍ ماہ سے سیلاب زدہ کوسی  اور کالی کوسی  کا پانی کھیتوں میں جمع ہے ۔ کھیتوں میں پانی رہنے کی وجہ سے ربیع کی فصل کی بوائی ہوگی یا نہیں ؟ ا س سلسلے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔  کسانوں کی پریشانی بڑھ گئی ہے ۔ ضلع کے  کسانوں کو مکئی کی فصل کی مناسب قیمت نہیں ملی اور دھان کی فصل ڈوب گئی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہےکہ اگر کھیتوں سے جلد پانی نہیں نکالاگیا تو ربیع کی فصل کی بوائی نہیں ہوپائے گی،کیونکہ پانی نکلنے کے بعد بھی کھیتوں کو سوکھنے میں طویل وقت لگے گا ۔ کالی کوسی کے سیلاب کی وجہ سے جمع پانی نکالنے کیلئے ایک دہائی پہلے سرحدی حلقہ مہیناتھ نگر سے پیر نگرا ہوتے ہوئے مغربی تیلہار تک  نالا  تعمیر کیا گیا تھا ۔ زمینداری پشتہ پر تیلہار گاؤں کے قریب سلوئس گیٹ کی تعمیر ہوئی تاکہ پانی نکالا جاسکے  جسے دو ہفتے  پہلے کھولا گیا لیکن مچھیروں کے ذریعہ کئی مقامات پر پانی  روک کر جال لگایا گیا ہے  جس سے کالی کوسی کا پانی مہیناتھ نگر ، مالی ، پیرنگرا ، بیلا نوادہ کی سیکڑوں ایکڑ زمین میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہے۔پانی جمع ہونے سے حالت اور بھی خراب ہوتی جارہی ہے ۔ کسانوں نے اس طرف انتظامیہ کی توجہ مبذول کرائی ہے ۔ اس انتخابات میں جمع پانی بھی ایک اہم مسئلہ ہوگا ۔ واضح رہے کہ ہر سال بیلدور کے کسانوں کو اس مسئلہ سے جوجھنا پڑتا ہے ۔ کوسی  اور کالی کوسی کے سیلاب میں ان کے سپنے ڈوب جاتے ہیں ۔

 ادھر بیلدور کے سی او امیت کمار نے کہا کہ سلوئس گیٹ  ۱۵؍ دن پہلے ہی کھول دیا گیا ہے ۔ اسی طرح مچھیروں کو نوٹس بھیج کر نالے کو پوری طرح کھولنے کا حکم دیا جارہا ہے ۔بہار کے ضلع سیتامڑھی میں  دھان کی فصلیں تباہ ہوگئی  ہیں لیکن انتخابی سرگرمیوں کے درمیان کوئی بھی لیڈر متاثرین کی خبر نہیں لے رہا ہے۔ بارش اور سیلاب سے بوکھرا بلاک کی۱۱؍ پنچایتوں میں ہزاروں ایکڑ میں کھڑی دھان کی فصل برباد ہو گئی ۔ اس کے باوجود اب تک کسانوں کو فصل کے نقصان کی بھرپائی کی رقم نہیں ملی ہے۔ کسانوں نے کڑی محنت اور روپے خرچ کرکے دھان کی بوائی کی تھی لیکن سیلاب اور برسات میں فصل برباد ہوگئی۔

 بلاک کے چکوتی، ماہسوتھا، بوکھرا،سگھا چوری   بنول  اور دیگر پنچایتوں کی ہزاروں ایکڑ پر مشتمل قابل کاشت اراضی میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے دھان کی فصل کا بڑے پیمانے پر نقصان ہوا  ہے۔ابھی کھیتوںمیں اتنا بھرا ہوا ہے کہ گیہوں کی بوائی کے وقت بھی کھیت خالی نہیں ہوں گے۔   ان پنچایتوں کے کسانوں کاکہنا ہے کہ دھان کی فصل کے بعد کھیت میں پانی کے جمع رہنے سے گیہوںکی فصل لگانا ممکن نہیں ہے۔ ایسے میں کڑی محنت اور پیداوار کے لئے لگائی گئی پونجی نکالنا مشکل ہوگیا  ہے۔ سیلاب متاثر ہ بلاک کی۱۱؍ پنچایتوں  کے  بلاک کے سبھی مکھیا نے بلاک نوڈل افسر اور اس وقت کے سی او کی رپورٹ کو بنیاد مانتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو قدرتی آفت فنڈ سے امداد  دینے کا مطالبہ کیا  تھا لیکن کچھ پنچایتوں کے کچھ وارڈوں کو چھوڑ کر زیادہ تر وارڈوں کو اس سے محروم کردیا گیا۔ ماہسوتھا کے سابق مکھیا اکھلیش پٹیل، بوکھرا کےمکھیا سجیت کمار ، بدھ نگرا کے مکھیا گورو رنجن، پاکٹولہ کے مکھیا شہاب الدین اور کرہر کے مکھیا ڈاکٹر رام جانکی رائے نے کہا کہ برسات اور سیلاب متاثرین کو سیلاب راحتی رقم دی جانی چاہئے تھی۔ ۱۱؍ پنچایتوں میں دھان کی فصل مکمل طور سے برباد ہوجانے کے بعد بھی  نقصان کی بھرپائی کیلئے رقم نہ ملنے سے کسان برہم ہیں۔

  کرہر کے کسان رام ہرکت یادو،پپو کمار، سیتارام رائے، رام پرویش رائے، سبودھ کمار یادو ،گنیش سہنی، باگرون کے شمبھو پرساد سہنی،کشوری رائے، سنگھا چوری کے پرویز احمد، شکیل احمد جبکہ بنول کے سیتارام رائے  اوررمیش رائے نے کہا کہ سیلاب اور برسات سے دھان کی فصل پوری طرح برباد ہوچکی ہے۔ کھیتوں میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے ربیع کی فصل پر بھی گہن لگ گیا ہے لیکن عوامی نمائندے اور سیاسی جماعتوں کے لوگ ووٹ کی سیاست میں الجھے ہوئے ہیں۔ انہیں کسانوں کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔بہار کے ضلع سیوان میں بارش اور سیلاب کے دوران  جمع ہونے والا  پانی کھیتوں اور گڑھوں  سے ابھی تک نہیں نکلا  ہے جس سے کسان  فکرمند ہیں۔ بلاک کے کچنار، بھاگر ، سرہرا ، رام گڑھ، بکھری ، نیا گائوں  اور واون ڈیہہ وغیرہ گائوںکے نچلے حصوں میں ابھی تک پانی جمع ہےجس سے ربیع کی فصل کی کھیتی متاثر ہو سکتی ہے۔ گائوں میں جگہ جگہ پانی بھرا ہوا ہے  جس کے نتیجے میں وبائی بیماری پھیلنے کا  خدشہ ہے۔ پانی جمع ہونے کی وجہ سے بدبو بھی ہو رہی ہے۔  ایسے میں گھروں سے نکلنا مشکل ہو رہا ہے۔

 آساڑھ ، سون ورشا  اور کشن باری وغیرہ گائوں میں سڑک پر کیچڑ اور گڑھوں کی وجہ سے اہم سڑک پر بھی چلنا  دشوار ہوگیا ہے۔ اُن پر چلنے  میں چھوٹی سے بڑی گاڑی والوں کو بھی  دقت ہوتی ہےجس سے حادثے کابھی خطرہ رہتا ہے۔  مکئی اور دھان  وغیرہ کی فصل کو نقصان ہونے کے بعد  کسانوں کو ربیع کی فصل کی بوائی کی فکر ستا رہی ہے۔ پانی نہیں نکلنے سے ان کے چہرے پر فکر کی لکیریں صاف دکھائی دے رہی ہیں۔ ادھر بلاک کے سب سے بڑے بازار چین پور میں واقع پرائمری ہیلتھ سینٹر میں پانی جمع ہونے سے علاج کرانے کیلئے آنے  مریضوں کو  دشواری ہو رہی ہے۔ مقامی  افراد کے ذریعہ  پمپ سے گڑھے میں جمع پانی کو اسپتال احاطے میں گرایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے یہاں کی حالت کافی خراب ہو گئی ہے۔ اسپتال احاطے میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے چاروں طرف غلاظت کا انبار  ہے جس سے   یہاں تھوڑی دیر کھڑا رہنا مشکل ہوگیا ہے۔ مقامی افراد نے انتظامیہ سے اس سے نجات دلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/7RU5t

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.